غير مسلم كے سلام کاجواب دینے اوراسے سلام كرنا كيسا ہے- اور اگر سلام نہیں كر سكتے تو نمستے يا نمسكار وغيره كرنے کا کیا حكم ہے؟
جواب : حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب اہل کتاب تم کو سلام کرے تو تم وعلیکم کہوں (بخاری 6258)
مذکورہ حدیث سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ کافر سلام کرے تو اس کے جواب میں وعیلکم کہے اور لفظ سلام کااضافہ نہ کرے اس لئے کہ کافر سلامتی کی دعا کا مستحق نہیں ہے اور مطلقا جواب نہ دینابھی جائز ہےاس لیے کہ ایک فاسق شخص کے سلام کا جواب نہ دیناجائز ہے. توکافرکا بدرجہ اولی جائز ہونا چاہیے۔اور اسی طرح کسی کافرکوسلام کرنابھی جائزنہیں ہے.اور لفظ نمسکارکہنا بھی درست نہیں ہے.اس لیے کہ یہ مشرکانہ شعار میں سے ہے اس لئے نمسكار کہنا درست نہیں ہے۔
لا يَجُوزُ السَّلامُ عَلى الكُفّارِ هَذا هُوَ المَذْهَبُ الصَّحِيحُ وبِهِ قَطَعَ الجُمْهُورُ … وإذا سَلَّمَ الذِّمِّيُّ عَلى مُسْلِمٍ قالَ فِي الرَّدِّ وعَلَيْكُمْ ولا يزيد عَلى هَذا هَذا هُوَ الصَّحِيحُ وبِهِ قَطَعَ الجمهور . (١)
سوال نمبر/ 0161 بیت الخلاء جاتے وقت چپل پہن کر اور سر ڈھانپ کر جانے کا کیا حکم ہے؟
جواب:۔ سنن بیہقی کی روایت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم جب قضاء حاجت کے لئے جاتے تو چپل پہن کر اور سر ڈھانپ کر جاتے تھے۔ (سنن بیہقی :168/1)
اس حدیث سے یہ بات واضح ہورہی ہے کہ بیت الخلاء جاتے وقت چپل پہن کر اور سر ڈھانپ کر جانا چاہیے۔
Question No/0161 What is the ruling on wearing slippers and covering head when going to the toilet?
Ans; It is mentioned in hadeeth of Sunan baihaqi that the Messenger of Allah(peace and blessings of Allah be upon him)used to wear slippers and cover his head when going to the toilet..(Sunan baihaqi 168/1)
It is manifested by this hadeeth that one must wear slippers and also cover his head when going to the toilet..
روزہ کی حالت میں اگر آگ کا دهواں منہ و ناک سے پیٹ میں چلا جائے تو روزه کا کیا حکم ہے ؟
جواب: روزہ کی حالت میں اگر آگ کا دهواں منہ و ناک سے پیٹ میں چلا جائے تو روزہ نہیں ٹوٹے گا. لہذا اگر کوئی جان بوجھ کر منہ کھلا رکھے تاکہ وہ دهواں اس کے پیٹ میں چلا جائے تب بهی روزہ باطل نہیں ہوگا اس لیے کہ دهواں عین کوئی چیز نہیں ہے.
اگرکسی شخص کی نماز جمعہ عذر یا بغیر عذر فوت ہوجاے تو اس کے لئے کیا حکم ہے؟
جواب: اگر کسی عذر یا بغیر عذر کے جمعہ فوت ہوجاے اور کسی جگہ جمعہ ملنے کا امکان نہ ہو. یا جمعہ کا وقت ہی فوت ہوجائے تو نماز ظہر ادا کرنا لازم ہے _
قالَ أصْحابُنا مَن لَزِمَتْهُ الجُمُعَةُ لا يَجُوزُ أنْ يُصَلِّيَ الظُّهْرَ قَبْلَ فَواتِ الجُمُعَةِ بِلا خِلافٍ لِأنَّهُ مُخاطَبٌ بِالجُمُعَةِ فَإنْ صَلّى الظُّهْرَ قَبْلَ فَواتِ الجُمُعَةِ فَقَوْلانِ مَشْهُورانِ (الجَدِيدُ) بُطْلانُها. المجموع (٤/٤٩٦)
سوال:اگرکسی کے ذمہ رمضان کےفرض روزے باقی ہوں توایسے مرد اور عورت کے لیے سنت روزہ رکھنے کا کیا حکم ہے؟
جواب:۔ اگر کسی کا رمضان کا روزہ کسی عذرکی وجہ سے چھوٹ گیا ہوتواس کی قضاء سے پہلے سنت روزہ رکھنا مکروہ ہے. اور اگر بغیر عذر کے چھوٹ گیا ہے تواس کی قضاء سے پہلے سنت روزہ رکھنا جائز نہیں ہے. لہذا رمضان کے باقی روزہ کی قضاء جس قدر جلدی ہوسکے کرلینی چاہیے. اور دوسرا رمضان آنے سے پہلے ہی اس ذمہ داری سے فارغ ہونے کا اہتمام کرنا چاہیے.
عام طور پر رمضان کے مہینے میں اذان کے بعد افطار کے لئے کچھ وقت دیا جاتا ہے. اس کا کیا حکم ہے؟ اور اس کی کیا دلیل ہے ؟
جواب: حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب کهانا قریب کیا جائے اور نماز کا وقت حاضر ہوجائے تو تم مغرب کی نماز پڑھنے سے پہلے کهانا کهاو (مسلم 557)
اس حدیث سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ اگر رمضان میں مغرب کی آذان کے بعد افطار کیلئے کچھ وقت جو دیا جاتا ہے وہ درست ہے. لیکن اتنی تاخیر درست نہیں کہ کهاتے کهاتے وقت ہی نکل جائے. یا مغرب کی نماز کا افضل وقت (اول وقت) نکل جاے- (شرح مسلم 64/5)
جواب:۔ حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب شعبان کا نصف اول ختم ہو اور نصف ثانی شروع ہو تو تم روزہ نہ رکهو.(سنن ابوداود:,2337)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہے کہ میرے اوپر رمضان کے روزے ہوا کرتے،اور میں انکی قضاء کی استطاعت نہ رکھتی سوائے شعبان کے. (بخاری:1950)
فقہاء کرام نے سنن ابو داؤد کی پہلی روایت سے پندرہ شعبان کے بعد بغیر سبب کے مطلق نفل روزے رکھنا جائز نہیں لکھا ہے. البتہ صحیح بخاری کی روایت سے فقہاء نے پندرہ شعبان کے بعد فرض روزہ کی قضاء کرنا بغیر کسی کراہت کے درست لکھا ہے.
و من ثم حرم الصوم بعد نصف شعبان بلا سبب…….(وله صومه عن القضاء) (نهاية المحتاج 178/177/3)
Fiqhe Shafi Question No/0167 What is ruling on making up the missed fasts after 15th of shaban?
Ans; Hazrat Abu Huraira R.A narrated that the messenger of Allah(peace and blessings of Allah be upon him)said; When the first half of shaban ends and the second of shaban comes, do not fast..
(Sunan abu dawood: 2337)
Hazrat Aisha R.A said;” Sometimes I missed some days of Ramadhan and couldnot fast instead of them except in the month of Shaban..(Sahih bukhari 1950)
The jurists based their opinion by the first hadeeth of sunan abu dawood that keeping unconditioned nifl fasts after 15th of shaban without any reason is not permissible ..However, on account of the narration of Sahih Bukhari the jurists says that making up the fardh missed fasts is valid without being disliked…
روزے کی حالت میں کولگیٹ ، منجن ، وغیرہ لگانے سے روزہ ٹوٹے گا یا نہیں .؟
جواب: روزے کی حالت میں اگرکسی نے کولگیٹ، یا منجن لگایا اور اس کا کچھ حصہ تهوک کے ساتھ پیٹ میں چلا گیا تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔
البتہ اگر اس کا صرف اثر یعنی مزہ حلق میں محسوس ہو تو روزہ نہیں ٹوٹے گا، اس اعتبار سے زوال سے پہلے اس شرط کے ساتھ کولگیٹ کرنا جائز ہے کہ اس کا ذرہ بهی حصہ اندر نہ چلا جائے اور زوال کے بعد مکروہ ہے، لیکن بہتر اور افضل بات یہ ہے کہ روزہ کی حالت میں کولگیٹ ، منجن وغیرہ استعمال کرنے سے احتیاط کرے۔
استعمال المعجون للصائم لا بأس به إذا لم ينزل إلى معدته ولكن الأولى عدم استعماله لأن له ينفذ إلى المعدة والإنسان لا يشعر به.
_____________(١) روضة الطالبين (٣٦٨/٢)
(٢) موسوعة الأحكام (٦٠٢)
*الفقه الإسلامى وأدلته (٦٦١/٢)
*فتاوى الصيام لابن جبرين (٦٤)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0169 تراویح کی نماز میں اگر کوئی حافظ صاحب دو رکعت کی جگہ تین رکعت پڑھ کر سلام پھیرے تو کیا کرے گا ؟اور بیس رکعت کس طرح مکمل کریگا ؟
جواب:۔ تراویح کی دو دو رکعت ہی مشروع ہے. اگر کوئی امام تیسری رکعت کے لیے بھولے سے کھڑا ہوجائے اور مقتدی کے یاد دلانے پر یا خود بخود یاد آجائے تو اسے فورا تشہد میں لوٹنا ضروری ہے. اگرچہ وہ سورہ فاتحہ و سورۃ پڑھ چکا ہو. اور آخر میں سجدہ سہو کرلے. اگر اسے تین رکعت مکمل ہونے کے بعد معلوم ہوجائے کہ تین رکعت ہوئی ہے تو ان تین رکعت میں سے دو رکعت تراویح میں شمار ہوگی. جس طرح کوئی ظہر کی فرض نماز میں پانچویں رکعت کے لیے کھڑا ہوجائے تو یاد آنے پر تشہد میں لوٹنا واجب ہے. البتہ یاد نہ آئے اور بھولے سے پانچ رکعت پڑھ لے تو پانچ رکعت میں سےچار رکعت سے ظہر کی نماز منعقد ہوجاتی ہے.اس لیے کہ ایک موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھولے کر پانچ رکعت پڑھائی اور آخر میں صرف سجدہ سہو کرلیا۔(بخاری:1226) لہذا جب فرض میں بھولے سے ایک رکعت زاید پڑھنے سے نماز شمار ہوجاتی ہے تو تراویح جیسی سنت نماز میں بدرجہ اولی اس کی گنجائش ہونی چاہیے .
لو قام في صلاة الرباعية الى خامسة ناسيا ثم تذكره قبل السلام فاعليه ان يعود الى الجلوس و يسجد للسهو و يسلم سواء تذكر في قيام الخامسه او بعده. المجموع (٤/١٣٧)
ولو قام لخامسة في رباعية ناسيا ثم تذكر قبل جلوسه عاد الى الجلوس فان كان قد تشهد في الرابعه او لم يتذكر حتى قراه في الخامس اجزأه ولو ظنه التشهد الاول ثم يسجد للسهو وان كان لم يتشهد اتى به ثم سجد للسهو وسلم. الاقناع (١/٣٤٧)