اتوار _22 _اکتوبر _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 1215
صلاۃ التسبیح کی کتنی رکعتیں ہیں؟ اسے کس طرح یعنی دو دو رکعت کرکے یا پھر 4 رکعت ایک سلام کے ساتھ پڑھنا چاہیے؟
صلاۃ التسبیح کی چار رکعتیں ہیں۔انہیں ایک سلام کے ساتھ یا پھر دو دو رکعت کرکے پڑھنا درست ہے۔ البتہ اگر کوئی شخص تسبیح کی نماز رات میں پڑھ رہا ہو تو چار رکعت دو تشھد اور ایک سلام کے ساتھ جیسے ظہر، عصر کی نماز پڑھتے ہیں اس طرح پڑھنا افضل ہے۔ اگر دن میں پڑھ رہا ہو تو پھر ایک سلام سے پڑھنا افضل ہے۔ دو دو رکعت پڑھنا بھی درست ہے ۔اور جب دو دو رکعت پڑھی جائے تو دونوں کے درمیان زیادہ فصل (دیر) نہ ہو
والمجموع من الروايتين ثلاثمائة تسبيحة، فإن صلاها نهارا فبتسليمة واحدة، وإن صلاها ليلا فبتسليمتين أحسن، إذ ورد أن صلاة الليل مثنى مثنى. وقوله: أربع ركعات بتسليمة أو تسليمتين قد تقدم في كلام الغزالي أنه إن صلاها نهارا فبتسليمة واحدة، وإن صلاها ليلا فبتسليمتين. وقال النووي في الأذكار، عن ابن المبارك: فإن صلاها ليلا فأحب إلي أن يسلم من كل ركعتين، وإن صلاها نهارا فإن شاء سلم وإن شاء لم يسلم.اه.وعلى أنها بتسليمة واحدة له أن يفعلها بتشهد واحد، وله أن يفعلها بتشهدين كصلاة الظهر. إعانة الطالبين:١/٣٠٠
وصلاة التسبيح أربع ركعات إما بتسليمة واحدة وهي نهارا أفضل، أو بتسليمتين وهو أفضل بليل۔. حاشيةالقليوبي:١/٢٤٧
ويحتمل أن شرط حصول سنتها أن يفعلها متوالية حتى تعد صلاة واحدة وهو الأقرب۔. حاشية الجمل:١/٤٧٩
بدھ _12 _جون _2024AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 1216
دودھ دینے والے جانور کی قربانی درست ہے یا نہیں؟
دودھ دینے والے جانور کی قربانی کرنا درست ہے۔
قال الامام الشافعي كرائم الاموال فيما هو أعلى كل ما يجوز أضحية.
الأم للشافعي: ٢٥،٢٦/٣
قال الامام الحرمين: وحكوا وجها بعيدا عن بعض الأصحاب أن الربى لا تقبل من جهة أنها لقرب عهدها بالولادة تكون مهزولة، والهزل عيب.وهذا ساقط، فقد لا تكون كذلك، وقد تكون غير الربى مهزولة، والهزل الذي يعد عيبا فهو الهزال الظاهر البين.
نهاية المطلب: ١٨٢/٣
المجموع: ٤٢٧/٦
مغني المحتاج: ١٢٢/٧
التمهيالتمه
پیر _23 _اکتوبر _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 1217
حمل کے دوران عورتوں کو بعض مرتبہ خاص طبی چانچ کی ضرورت پڑتی ہے تو کیا عورت ڈاکٹر کے ہوتے ہوئے کسی مرد ڈاکٹر سے چانچ کرانے کا کیا مسئلہ ہے؟
دوران حمل عورت کو بہت سی تکالیف و دشواریوں پیش آتی ہیں اور رحم میں موجود بچہ اور ماں کی صحت کے لیے مختلف طریقوں سے علاج و معالجہ اور جانچ کی ضرورت پڑتی ہے تو ایسے وقت میں ماہر مرد ڈاکٹر سے علاج کی یا خاص طبی جانچ کی checkup ضرورت پیش آئے تو اسکی اجازت ہے۔ البتہ ماہر عورت ڈاکٹر کی موجودگی میں مرد ڈاکٹر سے علاج کروانا جائز نہیں ہے.
امام نووی رحمة الله عليه فرماتے ہیں: وإذا كان بعورة المرأة علة يجوز للطبيب الأمين أن ينظر إليها؛ للمعالجة؛ كما يجوز للختان أن ينظر إلى فرج المختون؛ لأنه موضع ضرورة. التهذيب: ٢٣٦/٥
علامة زكريا الأنصاري فرماتے ہیں:قَالَ الْأَذْرَعِيُّ فِي الْغُنْيَةِ رَأَيْت فِي الْكَافِي لَوْ كَانَ بِعَوْرَةِ الرَّجُلِ أَوْ الْمَرْأَةِ عِلَّةٌ جَازَ لِلطَّبِيبِ الْأَمِينِ أَنْ يَنْظُرَ إلَيْهِمَا لِلْمُعَالَجَةِ كَمَا فِي الْخِتَانِ۔ أسنی المطالب:٤٧٤/٤
علامہ ابن الملقن رحمة الله عليه فرماتے ہیں: ويبَاحَانِ، يعنى النظرُ والْمَسُّ، لِفَصَدٍ وَحِجَامَةٍ وَعِلاَج، للحاجة الملجِئَة إلى ذلك… ونظر القابلة إلى فرج التي تولدها۔ عجالة المحتاج: ١١٨٠/٣
علامه أبوبکر الدمياطي رحمة الله عليه فرماتے ہیں: وهو أنه لا يباح النظر لأجل المعالجة عند وجود امرأة أو محرم۔ إعانة الطالبين :٤١٩/٣
بدھ _25 _اکتوبر _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 1218
میت کو غسل دینے کے بعد اگر اگلی یا پچھلی شرمگاہ سے نجاست نکلے تو کفن کے ساتھ پیمپر پہنانے کا کیا مسئلہ ہے؟
میت کو غسل دینے کے بعد اس کی اگلی یا پچھلی شرم گاہ سے نجاست نکل رہی ہو تو اس جگہ کو روئی سے بند کرنا چاہیے اگر ممکن نہ ہو تو اس صورت میں میت کو کفن کے اندر نجاست کو روکنے کے لیے پیمپر پہنانا درست ہے.
فَإِنْ كَانَ يَخَافُ مِنْ مَيْتَتِهِ أَوْ مَيِّتِهِ أَنْ يَأْتِيَ عِنْدَ التَّحْرِيكِ إذَا حُمِلَا شَيْئًا لِعِلَّةٍ مِنْ الْعِلَلِ اسْتَحْبَبْت أَنْ يَشُدَّ عَلَى سُفْلِيّهمَا مَعًا بِقَدْرِ مَا يَرَاهُ يُمْسِكُ شَيْئًا إنْ أَتَى مِنْ ثَوْبٍ صَفِيقٍ فَإِنْ خَفَّ فَلِبْدٌ صَفِيقٌ۔. الأم للشافعي- ط الفكر ١/٣٠٣
قال الشافعي رحمة الله عليه: (ويشد عليه خرقة مشقوقة الطرفين بإحدى أليتيه وعانته، ثم تشد عليه كما يشد التبان الواسع) .قال الشيخ أبو حامد: وهذا الشد لا يحتاج إليه في الميت إلا إن كان به علة قيام، أو خشي عليه أن يخرج منه، فيؤخذ لبد، فيشد عليه من فوق أليتيه، فإن لم يكن لبد، فخرقة. (البيان: ٣ / ٤٤)
جمعرات _26 _اکتوبر _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 1219
غیر مسلم لوگ دیوالی اور دسہرے کے موقع پر دیوی دیوتاوں کے نام پر بکرے ذبح کرتے ہیں اور ذبح کرنے کے لیے مسلمانوں کو بلاتے ہیں اس صورت میں مسلمان کے لیے جانور کو ذبح کرنے یا گوشت کی صفائی وغیرہ کی اجرت لینے کا کیا حکم ہے؟
غیروں کے تہواروں کے موقع پر ان کے دیوی دیوتاوں کے نام پر جو بکرے وغیرہ ذبح کئے جاتے ہیں اس طرح کے گناہ کے کاموں میں مسلمان کا اجرت پر کام کرنا شرعا جائز نہیں ہے اس لیے کہ گناہ کے کاموں پر کسی بھی طرح کا تعاون کرنا حرام ہے.
امام ابن حجر الهيتمي رحمة الله عليه: ما الحُكْمُ فِي بَيْعِ نَحْوِ المِسْكِ لِكافِرٍ يُعْلَمُ مِنهُ أنَّهُ يَشْتَرِيه لِيُطَيِّبَ بِهِ صَنَمَهُ وبَيْعِ حَيَوانٍ لِحَرْبِيٍّ يُعْلَمُ مِنهُ أنَّهُ يَقْتُلُهُ بِلا ذَبْحٍ لِيَأْكُلَهُ؟(فَأجابَ) بِقَوْلِهِ يَحْرُمُ البَيْعُ فِي الصُّورَتَيْنِ كَما شَمَلَهُ قَوْلُهُمْ (يعني العلماء ) كُلُّ ما يَعْلَمُ البائِعُ أنَّ المُشْتَرِيَ يَعْصِي بِهِ يَحْرُمُ عَلَيْهِ بَيْعُهُ لَهُ وتَطْيِيبُ الصَّنَمِ وقَتْلُ الحَيَوانِ المَأْكُولِ بِغَيْرِ ذَبْحٍ مَعْصِيَتانِ عَظِيمَتانِ ولَوْ بِالنِّسْبَةِ إلَيْهِمْ لِأنَّ الأصَحَّ أنَّ الكُفّارَ مُخاطَبُونَ بِفُرُوعِ الشَّرِيعَةِ كالمُسْلِمِينَ فَلا تَجُوزُ الإعانَةُ عَلَيْهِما بِبَيْعِ ما يَكُونُ سَبَبًا لِفِعْلِهِما وكالعِلْمِ هُنا غَلَبَةُ الظَّنِّ. الفتاوى الفقهية الكبرى:٢/٢٧٠
علامہ سلیمان البجیرمی رحمة الله عليه فرماتے ہیں:ولا يَجُوزُ لِلْمُسْلِمِ إعانَةُ الكافِرِ عَلى ما لا يَحِلُّ عِنْدَنا كالأكْلِ والشُّرْبِ… لِأنَّهُ إعانَةٌ عَلى مَعْصِيَةٍ. حاشية البجيرمي على الخطيب:٢/٣٧٤
علامہ زین الدین الملیباری رحمة الله عليه فرماتے ہیں: وحرم أيضا: بيع نحو عنب ممن علم أو ظن أنه يتخذه مسكرا للشرب والأمرد ممن عرف بالفجور به والديك للمهارشة والكبش للمناطحة والحرير لرجل يلبسه وكذا بيع نحو المسك لكافر يشتري لتطييب الصنم والحيوان لكافر علم أنه يأكله بلا ذبح لان الأصح أن الكفار مخاطبون بفروع الشريعة كالمسلمين۔. فتح المعين: ١/٣٢٦
وكذلك لا يبيع للمسلمين ما يستعينون به على التشبه بالكفار في أعيادهم. (الإسلام سؤال وجواب: رقم السؤال ٦٩٥٥٨)
جمعہ _27 _اکتوبر _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 1220
گھر میں بیوی کے علاوہ کوئی اور محرم رشتہ دار مثلاً والدہ، بالغ بیٹی یا بہن وغیرہ ہو تو کیا اپنے ہی گھر میں داخل ہونے کے لیے اجازت لینے کی ضرورت ہے جبکہ آج کل ہر گھر کے باہر گھنٹی ہوتی ہے؟
اپنے گھر میں اگر بیوی کے علاوہ محرم رشتہ دار ہوں تو گھر میں داخل ہونے سے پہلے ان کی اجازت لینا ضروری نہیں ہے. بلکہ بغیر اجازت بھی داخل ہوسکتے ہیں، لیکن بہتر یہ ہے کہ اجازت کے ساتھ داخل ہو یا داخل ہونے سے پہلے کم از کم کھانسے یا پیروں سے آہستہ آواز کرےجس سے موجود لوگوں کو آنے کی طلاع دے تاکہ اگر وہ نامناسب حالت میں ہو تو اپنے آپ کو سنبھال سکے۔
امام بخاری رحمة الله عليه فرماتے ہیں: سَأَلَ رَجُل حُذَيْفَة : أَسْتَأْذِن عَلَى أُمِّي؟قَالَ : إِنْ لَمْ تَسْتَأْذِن عَلَيْهَا رَأَيْت مَا تَكْرَه ". (الادب المفرد ١٠٦٠)
امام ابن الرفعه رحمة الله عليه فرماتے ہیں: وإن كان ذا محرم: فإن كان ساكنًا مع صاحب البيت فيه، فلا يلزمه أن يستأذن، ولكن عليه إذا أراد الدخول أن يشعر بدخوله بالنحنحة وشدة الوطء، ونقل الخُطا ليستتر العريان، ويفترق المجتمعا. (كفاية النبيه ١٦/٣٠٣)
(الحاوي الكبير ١٣/٤٦٤)
بدھ _1 _نومبر _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 1221
اگر کوئی سفر میں ہو اور ظہر اور عصر جمع تقدیم کر رہا ہو ظہر کی نماز سلام کے بعد جنازہ کی نماز پڑھی جارہی ہو تو کیا ایسا شخص ظہر اور عصر کے درمیان جنازہ کی نماز پڑھ سکتا ہے؟
مسافر اگر جمع تقدیم یعنی اول وقت میں ظہر کی نماز کے ساتھ عصر پڑھ رہا ہے اور ظہر کی سلام کے بعد جنازہ کی نماز کھڑی ہو تو اس صورت میں ایسا شخص جنازہ کی نماز دو نمازوں (ظہر اور عصر) کے درمیان نہیں پڑھ سکتا ہے اس لیے کہ جمع تقدیم میں ایک شرط پے درپے یعنی ایک نماز مکمل ہوتے ہی دوسری نماز کو شروع کرنا ضروری ہے. لھذا دو نمازوں کے درمیان جنازہ کی نماز پڑھنے سے لمبا فصل ہوگا جو درست نہیں ہے
الموالاة بينهما، بأن يبادر إلى الثانية فور فراغه من الأولى وتسليمه منها، لا يفرق بينهما بشيء من ذكر أو سنة أو غير ذلك؛ فإن فرق بينهما بشيء طويل عرفًا، أو أخر الثانية بدون أن يشغل نفسه بشيء بطل الجمع، ووجب تأخيرها إلى وقتها. اتباعًا للنبي ﷺ في كل ذلك. الفقه المنهجي:١/١٨٢
جمعرات _2 _نومبر _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 1222
مسافر اگر جمع تاخیر ظہر اور عصر پڑھ رہا ہو تو کیا ایسا شخص دو نمازوں کے درمیان نماز جنازہ پڑھ سکتا ہے یا نہیں؟
مسافر اگر جمع تاخیر پڑھ رہا ہو اور ظہر کی نماز مکمل ہونے کے بعد جنازہ کی نماز پڑھی جارہی ہو تو ایسا شخص دو نمازوں کے درمیان نماز جنازہ پڑھ سکتا ہے چونکہ جمع تاخیر میں مولات یعنی ایک نماز کے بعد فورا پڑھنا شرط نہیں ہے تاخیر کی گنجائش ہے
ولا يرد هنا شرط الترتيب بينهما، بل يبدأ بما شاء منهما، كما أن الموالاة بينهما – هنا – سنة وليست شرطًا لصحة الجمع. الفقه المنهجي:١/١٨٣
منگل _7 _نومبر _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 1223
ںاپ اگر غلط چیزوں میں پیسہ لگاتا ہو یعنی شراب یا جوا وغیرہ کا عادی ہو تو بیٹوں کے لیے انہیں خرچہ پانی کے لیے پیسہ دینے کا کیا مسئلہ ہے؟ اگر جھوٹ بول کر پیسہ لے اور جوا یا شراب کے لیے استعمال کرے تو پھر اس کا کیا حکم ہوگا؟
اگر کسی کا باپ شراب یا جوا کا عادی ہو اور باپ کے پاس ذریعہ معاش نہ ہو یا کام کاج سے عاجز ہو تو ایسی صورت میں بچوں پر باپ کا نفقہ واجب ہوگا۔ باپ اگرچہ گناہ کے کاموں میں ملوث ہو تب بھی باپ کا نفقہ بچوں پر واجب ہوگا۔ گناہ کے کاموں میں ملوث ہونے کی وجہ سے نفقہ ساقط نہیں ہوگا۔ ہاں اگر یقینی طور پر معلوم ہو کہ باپ یہ پیسے حرام کاموں میں خرچ کریں گا تو ایسی صورت میں بچوں کے لیے باپ کو پیسہ دینا حرام ہے۔ لیکن اولاد پر واجب کہ والدین کے لیے کھانے پینے کی ضروری اشیا کا انتظام کرے
قال الإمام الرملي رحمة الله عليه: صدقة التطوع سنة…. وقد تحرم إن علم: أى ولو بغلبة ظنه أنه يصرفها في معصية…. وتحل لغني ولو من ذوى القربى. نهاية المحتاج: 171/6
قال الإمام البجيرمي رحمة الله عليه: الصدقة سنة مؤكدة لما ورد فيها من الكتاب والسنة. وقد يعرض لها ما يحرمها كأن يعلم من آخذها أنه يصرفها في معصية، وتحل لغني بمال أو كسب ولو لذي قربي لا للنبي صلى الله عليه وسلم. حاشية البجيرمي: 320/3
بداية المحتاج: 696/2
النجم الوهاج:477/6
جمعرات _9 _نومبر _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 1224
تدفین کے کچھ دنوں بعد معلوم ہوجائے کہ قبرستان سے متصل زمین کسی دوسرے کی ملکیت ہے اور زمین کا مالک میت کو قبرستان کی زمین میں منتقل کرنے کا مطالبہ کرے تو کیا میت میں تغیر پیدا ہونے کے بعد بھی میت کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرسکتے ہیں؟
اگر تدفین کے کچھ دنوں بعد معلوم ہوجائے کہ قبرستان سے متصل زمین کسی دوسرے کی ملکیت ہےتو زمین مالک کے لیے مستحب یہ ہے کہ وہ میت کو منتقل نہ کرے۔ اگر زمین مالک میت کو منتقل کرنے پر اصرار کرے اگرچہ میت میں تغیر ہوا ہو تب بھی میت کو دوسری جگہ منتقل کرنا ہوگا چونکہ دوسرے کی زمین پر زمین مالک کی اجازت کے بغیر دفن کرنا جائز نہیں ہے۔
وإن دفن رجل بأرض غيره بغير إذنه…. فالمستحب لصاحب الأرض: أن لا ينقله؛ لأن في ذلك هتكًا لحرمته، فإن نقله جاز؛ لأنه دفن فيها بغير إذنه. البيان: ٣/٩٧
إِذَا دُفِنَ فِي أَرْضٍ مَغْصُوبَةٍ، يُسْتَحَبُّ لِصَاحِبِهَا تَرْكُهُ، فَإِنْ أَبَى، فَلَهُ إِخْرَاجُهُ وَإِنْ تَغَيَّرَ. روضة الطالبين:٢/١٤٠
كفاية النبيه: ٥/١٥٨
الحاوي الكبير:٧/١٧١
المذهب للروياني ٦/٤٣٣
منگل _14 _نومبر _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 1225
رہن میں رکھی ہوئی چیز سے فائدہ اٹھانے کی شرط لگاکر رہن میں رکھنے کا کیا مسئلہ ہے اگر کوئی قرض دیتے وقت قرض لینے والے سے یہ شرط لگائے کہ تم مجھے اپنی گاڑی، گھر وغیرہ بطور رہن دے دو تاکہ میں اس کو استعمال کرسکوں تو اس طرح کی شرط کے ساتھ رہن میں رکھنے کا کیا مسئلہ ہے؟
رہن میں رکھی ہوئی چیز کو معاملہ کے وقت ہی فائدہ اٹھانے کی شرط لگانا درست نہیں ہے ہاں اگر معاملہ کرتے وقت ایسی کوئی شرط نہ ہو بلکہ بعد میں رہن میں رکھنے والا شخص اپنی مرضی سے اس چیز کے استعمال کرنے کی اجازت دے تو رہن میں رکھنے والے کے لیے اس چیز سے فائدہ اٹھانا جائز ہے۔
قال الإمام الخطيب الشربيني رحمة الله عليه: وَإِنْ نَفَعَ الشَّرْطُ الْمُرْتَهِنَ، وَضَرَّ الرَّاهِنَ كَشَرْطِ مَنْفَعَتِهِ لِلْمُرْتَهِنِ بَطَلَ الشَّرْطُ لِحَدِيثِ «كُلُّ شَرْطٍ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى فَهُوَ بَاطِلٌ (وَكَذَا) يَبْطُلُ (الرَّهْنُ فِي الْأَظْهَرِ) لِمُخَالَفَةِ الشَّرْطِ مُقْتَضَى الْعَقْدِ. مغني المحتاج: ٣٩/٣
قال الإمام اارافعي رحمة الله عليه:ليس للمرتهن في المرهون سوى حق الاستيثاق (أما) البيع وسائر التصرفات القولية الانتفاعات وسائر التصرفات العقلية فهو ممنوع من جميعها. العزيز: ١٤١/١٠
قال اصحاب الفقه المنهجي:وأما إذا لم يكن الانتفاع للمرتهن مشروطًا في العقد فهو جائز، ويملكه المرتهن، لأن الراهن مالك، وله أن يأذن بالتصرّف في ملکه. الفقه المنهجي: ١٢٧/٧
نهاية المحتاج: ٢٣٥/٥
تحفة المحتاج: ٥٢/٥
جمعرات _16 _نومبر _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 1226
اگر کسی پر قرض ہو تو اس کے لیے نفلی صدقات کرنے کا کیا حکم ہے؟
اگر کسی کے ذمہ قرض ہو تو اس شخص کے لیے مستحب یہ ہے کہ قرض ادا ہونے تک نفلی صدقات نہ کرے۔ اگر نفلی صدقہ و خیرات کرنے سے قرض ادا نہ کرسکتا ہو تو پھر نفلی صدقہ و خیرات کرنا حرام ہوگا۔
علامه كمال الدين الدميري رحمة الله عليه فرماتے ہیں: وَمَنْ عَلَيْهِ دَيْنٌ أَوْ لَهُ مَنْ تَلْزَمُهُ نَفَقَتُهُ… يُسْتَحَبُّ أَنْ لاَ يَتَصَدَّقَ حَتَّى يُؤَدِّيَ مَا عَلَيْهِ*
النجم الوهاج:٦/٤٨١
دكتور وهبه الزحيلي رحمة الله عليه فرماتے ہیں: يستحب ألا يتصدق من عليه دين، أو من تلزمه نفقة لنفسه أو عياله، حتى يؤدي ما عليه. والأصح عند الشافعية تحريم الصدقة من مدين لا يجد لدينه وفاء. (الفقه الاسلامي وأدلته: ٢/٩٢١)
امام شمس الدين محمد بن خطيب شربيني رحمة الله عليه فرماتے ہیں:وَمَنْ عَلَيْهِ دَيْنٌ أَوْ وَلَهُ مَنْ تَلْزَمُهُ نَفَقَتُهُ يُسْتَحَبُّ أَنْ لَا يَتَصَدَّقَ حَتَّى يُؤَدِّيَ مَا عَلَيْهِ. (مغني المحتاج ٥/٨)
بدايه المحتاج في شرح المنهاج ٢/٦٩٧
نهاية المحتاج ٦/١٧٤
منگل _21 _نومبر _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر. / 1227
والدین اگر کمانے پر قادر ہو لیکن نہیں کما رہے ہوں یا کمانے پر قادر نہ ہو تو اولاد کا والدین کو کمانے پر مجبور کرنے کا کیا حکم ہے؟
اسلام میں والدین کے ساتھ ہر حال میں حسن سلوک کا حکم دیا گیا ہے۔ اولاد اگر مالدار ہو اور والدین کمانے سے عاجز ہوں تو اولاد پر والدین کا نفقہ واجب ہوگا اگر اولاد مالدار نہ ہو اور والدین کمانے سے عاجز یا بیمار بھی نہ ہو تب بھی والدین کے ساتھ حسن سلوک کا تقاضا یہ ہے کہ ان کو کمانے پر مجبور نہیں کیا جائے گا اور بہرحال والدین کا نفقہ اولاد ہی پر واجب ہوگا ۔
علامہ غمراوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: وتجب لفقير غير مكتسب ان كان زمنا وكذا العاجز بمرض او اعمى او صغيرا او مجنونا والا بان قدر على الكسب ولم يكتسب فاقوال: احسنها تجب مطلقا للاصل والفرع او لا تجب مطلقا والثالث تجب للاصل لا فرع قلت الثالث أظهر. (السراج الوهاج ٤٧٣)
دكتور محمد مطرحي رحمة الله عليه فرماتے ہیں: وان كان من الاصول وجبت على الاظهر نفقته، لان الله تعالى امر بمصاحبتهم في الدنيا بالمعروف وليس من المعروف ان يكلفوا الاكتساب مع كبر السن لحرمة الوالدين. (المجموع ١٩/٤٠٣)
علامه زحيلي رحمة الله عليه فرماتے ہیں: ان يكون الاصل فقيرا او عاجزا عن الكسب فان كان قادرا على الكسب فتجب ايضا نفقته عند….. الشافعيه في الأظهر ، لان الله تعالى امر بالاحسان الى الوالدين وفي الزام الاباء بالاكتساب مع غنى الابناء ترك للاحسان اليهم وايذائهم هولايجوز ويقبح بالانسان ان يكلف قريبه الكسب مع اتساعه ماله. (الموسوعة الفقه الاسلامي ٨/٧٨٢)
روضة الطالبين ٩/٨٤
(البيان ١١/٢١٩)
بدھ _29 _نومبر _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 1228
مطلق سنت نماز ایک رکعت پڑھنے کا کیا حکم ہے؟
مطلق سنت نمازیں دو دو رکعت یعنی ایک تشہد اور ایک سلام کے ساتھ پڑھنا سنت ہے۔ لیکن اگر کوئی ایک رکعت ایک تشہد اور ایک سلام کے ساتھ پڑھنا چاہے تب بھی درست ہے۔
إنْ تَطَوَّعَ بركعة فلابد مِنْ التَّشَهُّدِ عَقِبَهَا وَيَجْلِسُ مُتَوَرِّكًا كَمَا سَبَقَ بَيَانُهُ فِي بَابِهِ وَإِنْ زَادَ عَلَى رَكْعَةٍ فَلَهُ أَنْ يَقْتَصِرَ عَلَى تَشَهُّدٍ وَاحِدٍ فِي آخر صلاته۔. (المجموع: ٤/٥٠)
ولا حصر للنفل المطلق، وله أن يقتصر على ركعة بتشهد مع سلام بلا كراهة، فإن نوى فوق ركعة فله التشهد في كل ركعتين. فتح المعين:١/١٦٩
ثُمَّ إِنْ تَطَوَّعَ بِرَكْعَةٍ، فَلَا بُدَّ مِنَ التَّشَهُّدِ. وَإِنْ زَادَ عَلَى رَكْعَةٍ، فَلَهُ أَنْ يَقْتَصِرَ عَلَى تَشَهُّدٍ فِي آخِرِ صَلَاتِهِ. إعانة الطالبين. ١/٣١٠
روضة الطالبين: ١/٣٣٦
فتح العزيز. ٤/٢٧٣
جمعہ _1 _دسمبر _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 1229
اگر کوئی تنگدست آدمی عمرہ کے لیے زکات کی رقم طلب کرے تو ایسے شخص کو زکات کی رقم دینے کا کیا حکم ہے؟
غریب و تنگدست آدمی پر حج اور عمرہ فرض نہیں اور زکات کا مال صرف حج و عمرہ کے لیے دینا جائز نہیں ہے ہاں اگر کوئی غریب یا تنگدست آدمی کو غربت کی وجہ سے زکاۃ دی جائے اور وہ ان پیسوں سے حج یا عمرہ کرے تو کوئی حرج نہیں ہے صرف حج یا عمرہ کی نیت سے مانگ کر لوگوں سے زکات کی رقم وصول کرنا اور حج یا عمرہ کرنا جائز نہیں
وليس الحج والعمرة من هذه المصارف عند الجمهور، فقد اختلف العلماء في جواز دفع الزكاة لمن لا يستطيع الحج أو العمرة لكي يحج ويعتمر، والمعتمد في مذهب الحنابلة الجواز، وذهب الجمهور إلى المنع، ومذهب الجمهور هو الصحيح، ورجح المنع جمع من محققي الحنابلة، منهم الموفق ابن قدامة. (فتاوي دار المصرية)
ومال إلى المنع أيضا العلامة العثيمين رحمه الله، حيث سئل رحمه الله السؤال التالي: هل يجوز للإنسان أن يعطي شيئا من زكاته لمن أراد أن يحج؟ فأجاب رحمه الله بقوله: أما إذا كان الحج نفلا فلا يجوز أن يعطى من الزكاة، وأما إذا كان فريضة فذهب بعض أهل العلم إلى جواز ذلك، وأن تعطيه ليحج الفريضة، وفي نفسي من هذا شيء؛ لأنه لا فريضة عليه ما دام معسرا، وإذا كان لا فريضة عليه فلا يجوز أن يعطى من الزكاة۔. (الفتوى/١٢١٩٠٩)
إن الأصناف الثمانية هم المستحقون للزكاة حصراً، فلا تصرف لغيرهم، لأن نص الآية أفاد الحصر، فقال تعالى: ﴿ إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ.. التوبة : ٦٠] والمقصود من (الصدقات) الزكاة المفروضة لقوله تعالى في آخر لآية ﴿ فَرِيضَةً مِّنَ اللهِ، فلا يجوز دفعها لبناء المسجد أو غير ذلك، أما غير الزكاة من الصدقات المتطوع بها فيجوز صرفها لهم ولغيرهم۔. (المعتمد:٢-١١٨)
كتاب الفقه على مذهب الأربعة:٢-١٥١