فقہ شافعی سوال نمبر/ 0580 اگر کوئی عورت بيمار ہو اور اپنی جگہ پر ہی پيشاب پاخانہ کرتی ہے اسی بناء پر اسے پيمپرس پہنايا جاتا ہو تو ہر نماز کيلئے اسکے پيمپرس کو نکال کر دھونا اس عورت کے موٹاپے کی وجہ سے آسان نہيں ہے تو ايسى صورت ميں اس عورت كيلئے شرعا کيا حكم ہے ؟
جواب:۔ اگر کوئی عورت بيمار ہو اور اپنى جگہ پر پيشاب پاخانہ کرتی ہو اور اسی وجہ سے اسکو پيمپرس پہنيايا جاتا ہو اور اس عورت كے موتاپے کی وجہ سے پيمپرس کو ہر نماز کيئلے کھولنا بھی ممکن نہيں ہے تو وہ عورت ظهر كے وقت پيمپرس تبديل كركے نيا پيمپرس پہنے گی اور وضو كركے ظهر و عصر كو جمع كرے پھر مغرب كے آخرى وقت ميں پاکی صفائی حاصل كركے نيا پيمپرس پہنے اور دوبارہ وضو كركے مغرب عشاء كو جمع كركے پڑھے پھر فجر كيلئے مستقل صفائی حاصل كركے فجر ادا كرے ,, اور اگر دن میں تين مرتبہ پيمپرس بدلنا دشوار ہو تو عصر كے بالکل آخر وقت ميں پيمپرس بدل کر پاکی صفائی كركے وضو كرے اور ظهر كو عصر كے ساتھ جمع کرے پھر ويسے ہی مغرب كی اذان ہو مغرب وعشاء كو جمع كرے جيسے کہ رسول الله صلي الله عليه وسلم نے حضرت حمنه بنت جحش كو( انکے مرض) استحاضہ کے خون كےکثرت كی وجہ سے انکو پاکی صفائی کا حكم دے کر نمازوں کو جمع کرنےکا حكم ديا. اور خود نبي كريم صلي الله علیہ وسلم مدينة میں مرض كى وجہ سے نمازوں كو جمع كرکے پڑھی۔
قال علامه الماوردى فَإِنْ قَوِيتِ عَلَى أَنْ تُؤَخِّرِي الظُّهْرَ وَتُعَجِّلِي الْعَصْرَ فتغتسلين ثُمَ تُصَلِّي الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا ثُمَّ تُؤَخِّرِينَ الْمَغْرِبَ ثمَ تَغْتَسِلِينَ وَتَجْمَعِينَ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ فَافْعَلِي وَتَغْتَسِلِينَ عِنْدَ الْفَجْرِ ثُمَّ تُصَلِّينَ الصُّبْح( ٣): قال علامه وھبة الزحيلى الاستحاضة ونحوها: يجوز الجمع لمستحاضة ونحوها كصاحب سلس بول أو مذي أو رعاف دائم ونحوه(٤) قال علامه الدمياطى رح يجوز الجمع بالمرض تقديما وتاخير على المختار ويراعي الارفق (٥) (١)ابو داؤد، حديث ٢٨٧ (٢) جامع الترمزي : ٣٩٥٦، كتاب العلل
( ٣) الحاوي الكيير :٣٨٣/١ (٤) الفقه الاسلامى وادلة:١٣٨١/٢ (٥)اعانة الطالبين :١٦٤/٢
Fiqhe Shafi Question No0/580 If a sick woman urinates or excretes in her place due to which she is made to wear diaper and because of her obesity it is difficult to change her diaper for each prayer then what does the shariah say with regard to this?
Ans; If a sick woman urinates or excretes in her place and she is made to wear diaper and because of her obesity it is impossible to change her diaper for each prayer then the woman shall change her diaper in the time of zuhr and make ablution and combine zuhr and asar prayer and again she should change her diaper in the end part of maghrib and renew her ablution and pray combining maghrib and isha prayers.. similarly she must attain purity for fajr and perform prayer… If it is difficult to change the diapers thrice a day then one must change it in the end part of asar, perform ablution and pray zhur and asar prayer together and after the adhan of maghrib she must pray maghrib and isha together as the Prophet sallallahu alaihi wasallam asked Hamna bint e jahash to attain purity and combine the prayers for her heavy bleeding of istihaza and even the Prophet sallallahu alaihi wasallam combined the prayers in madinah due to his sickness…
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0581 کیا کسی غیر مسلم کے لیے مسجد کی صفائی کرنا جائز ہے؟
جواب:۔ کسی غیر مسلم کے لیے مسلمانوں کی اجازت کے بغیر مسجد میں داخل ہونا جائز نہیں ہے پس اگر کوئی غیر مسلم مسجد میں کھانے یا سونے کے لیے مسلمان سے اجازت لے تو مسلمان کو چاہیے کہ اجازت نہ دے لیکن اگر کوئی ضرورت ہو تو مسلمان کی اجازت سے مسجد میں داخل ہونا جائز ہے، لہذا اگر مسجد کی صفائی یا دیگر کام کاج کے لیے مسلمان مزدور میسر نہ ہوں تو پھر کسی غیر مسلم کے ہاتھوں مسلماں کی اجازت کے ساتھ مسجد کی صفائی وغیرہ کرانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
فأما سائر المسجد :فلا يجوز للكفار دخولها بغير إذن المسلمين لأنهم ليسوا من أهلها. فإن استأذن أحد منهم مسلماً في الدخول :فإن كان للأكل أو النوم، لم يأذن له في الدخول…. إن كان له حاجة إلى مسلم في المسجد أو للمسلم إليه حاجة، جاز له أن يدخل إليه. (البيان 240/12__241) قاله الاذرعي بناءً على الأصح من تمكين الكافر الجنب من المكث بالمسجد لأنها لا تعتقد حرمته. (مغنى المحتاج 418/3)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0582 اگر کافر میاں بیوی دونوں ایک ساتھ اسلام میں داخل ہوجائے تو کیا ان کا نکاح باقی رہیگا یا اسلام قبول کرنے کے بعد دوبارہ قاضی سے نکاح پڑھانا ضروری ہے شریعت اس سلسلے میں کیا رہنمائی کرتی ہے واضح فرمائیں نوازش ہوگی؟
جواب:۔ اگر کافر میاں بیوی دونوں ایک ساتھ اسلام قبول کرلے تو پھر ان کا نکاح باقی رہے گا، اسلام قبول کرنے کے بعد دوبارہ نکاح کی ضرورت نہیں ہے۔
"ولو أسلما معاً دام النكاح” (منهاج الطالبين٤٥٨/٢) ولو أسلما معاً على اَي كافر كان قبل الدخول أو بعده دام النكاح باجماع كما نقله ابن المنذر و ابن عبدالبر. (مغني المحتاج ٢٣٤/٣)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0583 اگر کسی شخص كو كتا كاٹے تو کاٹی ہوئی جگہ کے پاک کرنے کا طريقہ کياہے؟
جواب:۔ اگر کسی شخص كو كتا كاٹے تو کاٹی ہوئی جگہ کو جسم سے الگ کرنے کی ضروت نہيں ہے بلکہ اس جگہ کو سات مرتبہ دھوئے اس ميں ايک مرتبہ مٹی کا استعمال کرے , البتہ اگر اس زخم كو دهونے ميں ضرر زیادہ ہونے كا انديشہ ہے تو اس عذر کی بنا پر بغير دهوئے بھی پاک مانا جائے گا۔
قال الخطيب رحمة الله عليه: ومعض الكلب من الصيد نجس) كغيره مما ينجسه الكلب والأصح أنه لا يعفى عنه) كولوغه، والثاني يعفى عنه للحاجة، وقواه في المطلب (و) الأصح على الأول (أنه يكفي غسله) أي المعض سبعا (بماء وتراب) في إحداهن كغيره (و) أنه (لا يجب أن يقور) المعض (ويطرح) ؛ لأنه لم يرد، والثاني يجب ذلك، ولا يكفي الغسل؛ لأن الموضع تشرب لعابه، فلا يتخلله الماء.(مغني المحتاج :١٥٠/٦) (٢) نهاية المحتاج : ٢٥٢/١ (٣)روضة الطالبين :٥١٧/٢
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0584 اگر کتے کے لعاب يا اسكے اور ناپاکی کی وجہ سے کوئی چيز ناپاک ہوجائے پھر وہ ناپاک چيز كسی دوسری چيز كو لگ جائے تو وہ چيز ناپاک ہوگی يا نہيں ؟
جواب:۔ اگر کتے کے لعاب يا اسكی اور ناپاکی کی وجہ سے کوئی چيز ناپاک ہوجائے پھر وہ ناپاک چيز كسی دوسری چيز كو لگ جائے تو وہ دوسری چيز بھی ناپاک ہوگی۔
قال ابن شھاب الدين الرملي رحمة الله عليه وما نجس بملاقاة شئ من كلب سواء أكان بجزء منه أم من فضلاته، أم بما تنجس بشيء منهما كأن ولغ في بول أو ماء كثير متغير بنجاسة ثم أصاب ذلك الذي ولغ فيه ثوبا ولو معضه من صيد أو غيره، وسواء أكان جافا ولاقى رطبا أم عكسه (غسل سبعا إحداهن) في غير أرض ترابية (بتراب) ولو طينا رطبا كما أفتى به الغزالي لأنه تراب بالقوة، ويكفي العدد المذكور بشرطه وإن تعدد الوالغ أو الولوغ أو لاقته نجاسة أخرى. (نهاية المحتاج ٢٥٢/١) * الحاوى الكبير ! ٣١٥/١ * التهذيب ١٩٠/١ * روضة الطالبين ! ١٤١/١
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0585 اگر کوئی شخص قرآن مجید پڑھ رہا ہو تو اس کو سلام کرنے کا کیا حکم ہے ؟
جواب:۔ اگر کوئی شخص قرآن مجید پڑھ رہا تو دوران تلاوت اگر کوئی اس کے پاس سے گذر ے تو سلام کرنامستحب ہے اورتلاوت کرے والے کے لئے اس کا جواب دینا ضروری ہوگا کیوں کہ تلاوت ایک مسنون چیز ہے اور سلام کا جواب دینا واجب ہے۔
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0586 اگر کوئی برہنہ شخص نماز پڑھ رہا تھا دوران نماز اس کو کپڑا مل جائے تو نماز کے دوران ستر چھپانے کی شرعا اس کا کیا طریقہ ہے؟
جواب:۔ اگر کوئی شخص برہنہ نماز پڑھ رہا ہو اور دوران نماز اس کو کوئی کپڑا قریب میں نظر آئے تو اس کپڑے سے فوراً ستر کرنا چاہیے البتہ اس بات کا خیال رکھے کہ کپڑا لینے میں عملِ کثیر نہ ہو اور نہ ہی فصل طویل (بہت تاخیر ) ہو اور اگر بلاعذر تاخیر کرے اور تاخیر کرنے سے وہ کپڑا ضائع ہوجائے تو اس شخص برہنہ نماز باطل ہوگی۔
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0587 كيا قبرستان كى جگہ پر جہاں ابھی قبریں نہیں ہیں اسكول و اسپتال بنا سکتے ہیں ؟
جواب:۔ اگر قبرستان كى جگہ تدفين كے لئے وقف ہو تو ايسى صورت میں وہاں اسکول و اسپتال بنانا جائز نہیں ہے. اگر قبرستان کی زمین وقف شدہ نہ ہو بلکہ عام قبرستان ہو تب بھی اس جگہ پر گھر یا ہوسپتال وغیرہ کا بنانا بالکل درست نہیں ہے ۔
قال علامه الدميرى رحمة الله عليه: (ولو بني في مفبرة مسبلة .. هدم)؛ لأنه يضيق على المسلمين. قال الشافعي رضي الله عنه: رأيت من الولاة عندنا بمكة من بهدم ما بني فيها ولم أر الفقهاء يعيبون عليه ذلك.،،، وقد أفتى الشيخ بهاء الدين ابن الجميزي وتلميذه الظهير التزمنتي. بهدم ما بني بها.،،، فإن الموقوفة يحرم بالبناء فيها قطعًا, سواء كان البناء بيتًا أو قبة أو مسجدَا.(١) (١) نجم الوهاج : ١١١/٣ (٢) حواشي الشرواني : ٢٨٤/٦ (٣) اعانة الطالبين :٢٩٥/٣ (٤) فتح المعين : ٤١٥
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0588 فرض نماز کے بعد انگلیوں میں انگلیاں ڈال کر بیٹھنے کا شرعاً کیا حکم ہے؟
جواب :۔ فقہاء کرام نے یہ مسئلہ بیان کیا ہے کہ جو شخص نماز کے انتظار میں ہو یا جس کا نماز کا قصد ہو اس کے لیے بالاتفاق تشبیک مکروہ ہے تشبیک یعنی ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈالنا) کیونکہ نماز کا انتظار کرنے والا نماز ہی میں ہوتا ہے، البتہ نماز کے بعد انگلیوں میں انگلیاں ڈال کر بیٹھنا مکروہ نہیں ہے۔
اتفق الأصحاب على كراهة تشبيك الأصابع في طريقه إلى المسجد وفي المسجد يوم الجمعة وغيره…… فإن قيل أنه صلى الله عليه وسلم شبك بين أصابعه في المسجد بعد ما سلم من الصلاة عن ركعتين في قصة ذي اليدين وشبك في غيره، أجيب بأن الكراهة إنما هي في حق المصلي وقاصد الصلاة وهذا كان منه صلى الله عليه وسلم بعدها في اعتقادها. (ابوداؤد: 562) (بخارى :479) (مغنى المحتاج 506/1-507)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0589 اگر کوئی شخص غلطی سے یا نہ جانتے ہوئے سجدہ سہو دو سجدے کے بجائے تین مرتبہ سجدہ کرے تو اس کی نماز کا کیا حکم ہے؟
جواب:۔ سجدہ سہو کے دو سجدے کرنا سنت ہے چاہے کتنے مرتبہ بھی سہو ہوجائے۔ لہذا اگر کوئی سہوا یا جہلا سجدہ سہو دو کے بجائے تین سجدے کرے تو اس کے لئے دوبارہ سجدہ سہو کرنے کی ضرورت نہیں لہٰذا اس صورت میں اس کی نماز بغیر سجدہ سہو کے ہو جائے گی۔
سُجُودُ السَّهْوِ سُنَّةٌ عِنْدَ تَرْكِ مَامُورٍ بِهِ، أَوْ فِعْلِ مَنْهِيٍّ عَنْهُ…..وَسُجُودُ السَّهْوِ وَإِنْ كَثُرَ سَجْدَتَانِ كَسُجُودِ الصَّلاَةِ. (إعانة الطالبين ٣١٢/١) وصورة جبره لما يحصل فيه من السهو أن يسجد له ثم يتكلم فيه بكلام قليل ناسيا فلا يسجد ثانيا لأنه لا يأمن من وقوع مثل ذلك في السجود الثاني، وهكذا فيتسلسل. وكذلك لو سجد ثلاث سجدات ناسيا فلا يسجد ثانيا للتعليل المذكور. (النجم الوهاج ٢٤٨/٢-٢٦٤)