بدھ _25 _جنوری _2017AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
سوال نمبر/ 0113
بسا اوقات بعض جگہوں پر پانی میں کیمیکل چھوڑا جاتا ہے جس کی وجہ سے مچھلیاں پانی کے کنارے لگ جاتی ہیں اگر ان کو فورا نہ پکڑا جائے تو تھوڑی دیر کے بعد مر جاتی ہیں تو ایسی مچھلی کے کھانے کا کیا حکم ہے ؟
جواب:۔ سمندر کا مردار تمام حلال ہے، چاہے وہ شکار کے بعد فطری موت مرے یا کسی سبب کی بنا پر مرے، لہذا کسی جگہ اگر کیمیکل چھوڑنے کی وجہ سے مچھلیاں مر جائیں تو وہ سب حلال ہیں جبکہ ان مچھلیوں کو کھانے کی بناء پر کسی قسم کے ضرر کا اندیشہ نہ ہو، ہاں اگر کسی بیماری وغیرہ کا اندیشہ ہو تو حرام ہیں۔
————
قال الامام النووي:
فيحل عندنا كل ميتات البحر… سواء ما مات بسبب و غيره (المجموع 9/30)
وقال ايضاً:
قد ذكرنا أن مذهبنا: إباحة ميتتات السمك سواء الذي مات بسبب (المجموع. 9/70)
قال وهبة الزحيلي:
مذهب الجمهور غير الحنفية، ورأيهم هو الاصح: حيوان الما: السمك و شبهه مما لا يعيش إلا في الما…. حلال… كيف مات ، حتف أنفه ،أو بسبب ظاهر…. لكن إنتفخ الطافي بحيث يخشي منه السقم يحرم للضرر (موسوعة الفقه الإسلامي 3/672)
بدھ _25 _جنوری _2017AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
بدھ _25 _جنوری _2017AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
سورة الانعام– آيت نمبر 143-144 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
منگل _24 _جنوری _2017AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
منگل _24 _جنوری _2017AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
اردو ترجمہ شفقت الرحمٰن
عنوان: اسلام کی مقبولیت میں اضافہ کیوں اور کیسے؟
منگل _24 _جنوری _2017AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
سوال نمبر/ 0114
میت کو غسل دیتے وقت غسل میت کے ساتھ احتلام و جنابت وغیرہ کا غسل دینے کا عام رواج ہے، کیا یہ صحیح ہے؟ غسل میت سے تمام غسل ادا ہوتے ہیں یا نہیں؟
جواب:۔ ميت کو غسل دیتے وقت احتلام و جنابت کے غسل کا رواج صحیح نہیں ہے، بلکہ صرف غسل میت کافی ہے۔
—————
علامہ خطیب شربینی فرماتے ہیں
ولو اجتمع على المرأة غسل حيض و جنابة كفت نية أحدهما قطعا.(مغني المحتاج:125/1)
سيلانه على جميع البدن أي شرائط مخصوصة بالنية أي فى غير غسل الميت … أي أما هو فلا يجب فيه النیة بل يستحب.(حواشي الشرواني وابن القاسم العبادي:257/1)
منگل _24 _جنوری _2017AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
سورة الانعام– آيت نمبر 141-142 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
پیر _23 _جنوری _2017AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
پیر _23 _جنوری _2017AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
سوال نمبر/ 0115
اگر کسی میت کو دفن کرنے کے لیے قبر کے بقدر جگہ خریدنی ہو تو قبر کی جگہ کی قیمت میت کے ترکہ (مال) میں سے دیجائے گی یا ورثاء اپنے مال میں سے اداء کرینگے؟
جواب:۔ اگر کسی میت کو دفن کرنے کے لیے قبر کے بقدر جگہ خریدنی ہو تو اس جگہ کی قیمت میت کے ترکہ سے دیجائے گی ، ورثاء اپنے ذاتی مال سے میت کی تجہیز و تکفین کا خرچہ دینا ضروری نہیں ۔
—————-
امام شافعی رحمة الله عليه فرماتے ہیں :
وكفن الميت و حنوطه ومؤنته حتى يدفن من رأس ماله ليس لغرمائه ولا لوارثه منع ذالك۔(الأم:595/2)
پیر _23 _جنوری _2017AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
پیر _23 _جنوری _2017AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
سورة الانعام– آيت نمبر 141-142 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
اتوار _22 _جنوری _2017AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
اتوار _22 _جنوری _2017AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
اتوار _22 _جنوری _2017AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
سورة الانعام– آيت نمبر 137-138-139-140 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
ہفتہ _21 _جنوری _2017AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
سوال نمبر/ 0116
ایصالِ ثواب کے لئے میت کی جانب سے جو چیز خرچ کی جائے وہ صدقہ میں شمار کی جائے گی یا نہیں؟ تو اس کے پیش نظر اگر میت کے ایصالِ ثواب کے لئے کھانا پکا کر امیر و غریب دونوں قسم کے لوگوں کو کھلایا جائے تو مالدار لوگوں کے لئے اس کا کھانا جائز ہے یا نہیں؟
جواب:۔ میت کی طرف سے ایصالِ ثواب کی خاطر جو دیا جاتا ہے وہ سب صدقہ نہیں ہوا کرتا، بلکہ اس میں دینے والے کی نیت کا اعتبار ہوگا، اگر صدقہ تطوع (مستحب ) کے طور پر دیا گیا ہو پھر اس میں مالدار بھی شریک ہوں تو اس میں کوئی حرج نہیں، ہاں واجب صدقہ (زکات، وغيره) میں مالدار لوگوں کو شامل کرنا جائز نہیں ہے۔ نیز مالدار کو نفلی صدقہ لینے سے احتیاط کرنا بہتر ہے۔
————–
امام نووی رحمة الله عليه فرماتے ہیں:
قال اصحابنا: لا يجوز صرف الزكاة إلى غني من سهم الفقراء والمساكين (المجموع:219/6)
امام نووی رحمة الله عليه فرماتے ہیں:
ﺗﺤﻞ ﺻﺪﻗﺔ اﻟﺘﻄﻮﻉ للأﻏﻨﻴﺎء ﺑﻼ ﺧﻼﻑ ﻓﻴﺠﻮﺯ ﺩﻓﻌﻬﺎ ﺇﻟﻴﻬﻢ ﻭﻳﺜﺎﺏ ﺩاﻓﻌﻬﺎ ﻋﻠﻴﻬﺎ و لكن المحتاج أفضل۔(المجموع:٢٣٢\٦)
امام نووی رحمة الله عليه فرماتے ہیں يستحب للغني التنزه عنها(روضةالطالبين:204/2)